Skip to main content

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں ہی حقائق بیان کرتے ہوئے ملک کا ایسا نقشہ پیش کر دیا کہ آپ بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

نو منتخب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنے مشکل مالی حالات نہیں تھے جیسے کے اب ہیں، پاکستان اس وقت 28 ہزار ارب روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق قوم سے اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 10 سال قبل پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب روپے تھا جو کہ 2013 میں بڑھ کر 15 ہزار ارب اور پھر اب یہ 28 ہزار ارب روپے ہوچکا ہے،پیپلز پارٹی کی حکومت گئی تو60 ارب روپے کا قرضہ تھا،روپے پرسارا دباؤ بیرونی قرضوں کی وجہ سے ہے،سود ادا کرنے کیلیے ہمیں قرضہ لینا پڑ رہا ہے،گزشتہ دور حکومت میں 75 کروڑ روپیہ بیرونی دوروں پر خرچ کیا گیا،یہ قرضے کا پیسا کہاں خرچ ہوا قوم کو بتاؤں گا۔انہوں نے کہا کہموسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ بہت سنگین ہے، پاکستان دنیا کا ساتواں سب سے متاثر ہونے والا ملک ہے،سوا دو کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، آبادی بھی بڑھ رہی ہے اور اگر انہیں تعلیم نہ دی گئی تو ان بچوں کا کیا ہوگا؟۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ  آج وقت ہے کہ ہم اپنی حالت بدلیں، ہمیں دل میں رحم پیدا کرنا ہوگا،45 فیصد بچوں کو صحیح غذا نہیں ملتی،کم غذایت کی وجہ سے بچے شدید بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں،کم غذایت کے باعث بچے صحتمند بچے کا مقابلہ نہیں کر سکتا،43فیصد بچے ذہنی کمزوری کا شکار ہیں ، ہم اپنے بچوں کو صاف پانی اور کھانا فراہم نہیں کر پار ہے،اپنے بچوں پر خرچ کرنے کیلیے ملک میں پیسا نہیں، ہمیں اپنی سوچ اور رہن سہن بدلنا ہوگا,اگر ملک اسی طرح چلتا رہا تو قوم ترقی نہیں کرے گی،آج وقت ہے کہ ہم اپنی حالت بدلیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ان 5 ممالک میں سے ہیں جہاں خوراک نہ ملنے پر عورتوں کی صحت متاثر ہوتی ہے،ہم ان پانچ ملکوں میں سے ہیں جہاں گندا پانی پینے سے بچوں کی اموات ہوتی ہیں،ایک طرف قوم مقروض ہے دوسری طرف صاحب اقتدار اس ملک میں ایسے رہتے ہیں جیسے انگریز یہاں رہتے تھے جب ہم ان کے غلام تھے،وزیر اعظم ہاؤس کے سالانہ اخراجات کروڑوں روپے کے ہیں،وزیر اعظم ہاؤس1100 کینال پر ہے،وزیر اعظم کی80 گاڑیاں اور33 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں،وزیر اعظم پاکستان کے524 ملازم ہیں،ڈی سی ،کمشنر، گورنر بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Ch Munir Ahmed Gujjar announced NGO for social work

On 7th January Ch, Munir Ahmed Gujjar announced officially that he is going to start NGO internationally to support and work for poor people who are suffering. He further said that he plans to promote this cause globally.  At first, he planned to name the foundation on his mentor name "Shaheed Haji Allah dita" but because of some reservation of his colleagues he decided to launch on the name of " Chaudhary Rehmat Ali Khan"  He asked people to support him in this cause.

میں بھی کچھ ڈیمز بنانا چاہتا ہوں ، میں بھی قرض اتارنے کی کوشش کروں گا، جسٹس آصف سعید کھوسہ

ہمیں کھلے ذہن کے ساتھ اس پر بحث کرنی چاہیے کہ عدلیہ، ایگزیکٹو اورقانون ساز سے ماضی میں کہاں کہاں غلطیاں ہوئی ہیں،آئیں اس پر بات کرتے ہیں کہ کہاں عدالت نے مبینہ طور پر ایگزیکٹو کے اختیار میں مداخلت کی اور کیسے عدلیہ اپنے معمول مگر موثر کردار میں واپس آسکتی ہے،‬
‫جسٹس آصف سعید کھوسہ

میں بھی کچھ ڈیمز بنانا چاہتا ہوں ، میں جعلی گواہوں اور جعلی شہادتوں کے خلاف ڈیم بنانا چاہتا ہوں ،
میں بھی قرض اتارنے کی کوشش کروں گا، عرصہ دراز سے زیر التوا مقدمات کا قرض ،
ہمیں ہر قسم کے حالات میں مقبول رہنے کے بجائےصحیح رہنے کو ترجیح دینی چاہیے،
نامزد چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ

Who is Ch Munir Ahmed Gujjar?

Ch Munir Ahmed Gujjar was born in small village of Mian Chanu 15/95L. He is younger son of his parents, his family has good repute in village but not political family. He studied basic education from the nearby school in his home town. Later he went to Khanewal and Sahiwal for his intermediate and Graduation. Ch Munir Ahmed Gujjar is very much interested in politics from early childhood he was very much impressed from his Political teacher Peer Shujaat Hussain Querashi. In Teenage he was supporter of PPP and used to participate in various activities of Pakistan People's Party at district level.
 But once Imran Khan Launched his political party Pakistan Tahreek e Insaaf he joined and became founding member of PTI and in 1997 he was the only supporter of Imran Khan and PTI in his Village. He supported PTI candidate and till now he is struggling for the cause of PTI.
 He remain the part of PTI from more than 20 years and represented PTI at various positions. By profession he is busin…